نئی دہلی: 23 /اپریل(ایس اونیوز /آئی این ایس انڈیا) الیکشن کمیشن کی چشم پوشی اوربنیادی مدعے نہ ہونے کی وجہ سے بی جے پی لیڈران کسی بھی حدتک جانے کوتیارہیں۔وہ مستقل اشتعال انگیزبیانات دے رہے ہیں،متنازعہ بیانات کے لیے مشہور مرکزی وزیر اور بیگوسرائے سے بی جے پی امیدوار گری راج سنگھ نے انتخابات میں ہرے جھنڈوں پر پابندی لگانے کی الیکشن کمیشن سے کی ہے۔انہوں کہا ہے کہ اس رنگ کے جھنڈوں کو اکثر مسلمانوں سے جڑے سیاسی اور مذہبی اداروں سے جوڑ کر دیکھا جاتا ہے۔انہوں الزام لگایا کہ یہ نفرت پھیلاتے ہیں اور پاکستان میں استعمال ہونے کی شبیہہ بناتے ہیں۔ہندوتوکو لے کر اپنے سخت خیالات کے لئے جانے جانے والے سنگھ نے کہا کہ اس پارلیمانی حلقہ سے ان کی جنگ اس گروہ کے خلاف ہے جو ہندوستان کے ٹکڑے کرنے کے لئے کام کر رہا ہے۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ وہ ثقافتی قوم پرستی اور ترقی کے ایجنڈے کی نمائندگی کرتے ہیں بھگوا پارٹی کے لیڈر نے انٹرویو میں کہا کہ بی جے پی زیر قیادت این ڈی اے، بہار (یہاں لوک سبھا کی 40 سیٹیں ہیں) میں 2014 میں جیتی گئی 31 سیٹوں کے اعداد و شمار کو بہتر کرے گی اور وزیر اعظم نریندر مودی خود ہر سیٹ پر اتحاد کے امیدوارہیں۔بیگوسرائے میں سہ رخی مقابلہ ہونے کی توقع ہے، جہاں سنگھ کا سامنا آر جے ڈی کے تنویر حسن اور سی پی آئی کے نوجوان لیڈر کنہیا کمار سے ہے۔انہوں نے 2014 میں 1.4 لاکھ ووٹوں کے فرق سے بہار کی نوادہ لوک سبھا سیٹ سے کامیابی حاصل کی تھی لیکن اس بار انہیں بیگو سرائے سے ٹکٹ دیا گیا ہے۔انہوں نے اس تبدیلی کو لے کر ناراضگی ظاہر کی تھی لیکن مرکزی قیادت نے انہیں منا لیا۔پارٹی کے صدر امت شاہ نے خود ان سے بات چیت کی تھی۔